کولمبیا یونیورسٹی دے پروفیسر جيفری ساکس دی کتاب دی اینڈ آف پاورٹی: اکنامک پوسیبیلٹیز فار آور ٹائم (2005) غریبی دے خاتمے لیے اک مکمل منصوبہ پیش کردی اے۔ ساکس دا مؤقف اے جے صحیح حکمت عملی، مالی امداد، تے سیاسی عزم دا مظاہرہ کیتا جائے تاں 2025 تک انتہائی غربت دا خاتمہ ممکن اے۔
اہم نکات:
1. غربت دا جال (Poverty Trap) – غریب ممالک بنیادی ڈھانچے، صحت، اور تعلیم میں سرمایہ کاری نہیں کر سکتے، جس کی وجہ سے وہ ترقی نہیں کر پاتے۔ بیرونی امداد کے بغیر وہ اس جال سے نہیں نکل سکتے۔
2. معاشی ترقی کے مراحل – ساکس ایک “معاشی سیڑھی” کی وضاحت کرتے ہیں، جس میں غریب ممالک کو ابتدائی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔
3. جغرافیہ کا کردار – کسی ملک کا جغرافیہ ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سمندر سے محروم (landlocked) علاقوں، ناموافق موسم، اور بیماریوں کی زیادتی جیسے عوامل ترقی کو روکتے ہیں۔
4. سرمایہ کاری کی اہمیت – صحت، تعلیم، زراعت اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری غربت کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
5. ملینیم ڈیولپمنٹ گولز (MDGs) – ساکس اقوام متحدہ کے ان اہداف کی حمایت کرتے ہیں جو بھوک، بیماری اور غربت کو کم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
6. غیر ملکی امداد اور قرضوں میں نرمی – امیر ممالک کو اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا کم از کم 0.7% ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے دینا چاہیے۔
7. مارکیٹ ریفارمز اور حکومتی کردار – آزاد منڈی (free market) ضروری ہے، لیکن ابتدائی مرحلے میں حکومت کی مداخلت صحت، تعلیم، اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے ضروری ہے۔
8. کامیابی کی کہانیاں – چین اور بھارت جیسے ممالک کی مثالیں دی گئی ہیں، جنہوں نے دانشمندانہ سرمایہ کاری اور عالمی معیشت کے ساتھ جڑ کر لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا۔
9. ٹیکنالوجی اور اختراعات – جدید ٹیکنالوجی، ادویات، اور زرعی ترقی غربت کے خاتمے کے لیے انقلابی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
10. عملی اقدامات کی ضرورت – ساکس حکومتوں، کاروباری اداروں، اور عام افراد کو غربت کے خاتمے کے لیے متحد ہونے اور ذمہ داری قبول کرنے کی ترغیب دیتے ہیں ۔
کتاب کا خلاصہ:
جيفری ساکس کتاب میں غربت کی بنیادی وجوہات بیان کرتے ہیں اور وضاحت کرتے ہیں کہ کچھ ممالک ترقی کیوں نہیں کر پاتے۔ وہ کہتے ہیں کہ غربت کے جال میں پھنسے ممالک کو تھوڑی سی مالی مدد اور بنیادی سہولتیں فراہم کر دی جائیں تو وہ خود ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔
وہ افریقہ، ایشیا، اور لاطینی امریکہ کی مثالیں دے کر بتاتے ہیں کہ صحت، زراعت، اور مائیکرو فنانسنگ میں مخصوص مداخلتیں غربت کو ختم کر سکتی ہیں۔ وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) اور ورلڈ بینک کی سخت پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہیں، جو بسا اوقات غریب ممالک کو مزید نقصان پہنچاتی ہیں۔
ساکس اقوام متحدہ کے ملینیم ڈیولپمنٹ گولز کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور امیر ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی غیر ملکی امداد کی ذمہ داری پوری کریں۔ کتاب کے آخر میں، وہ ایک ایسے مستقبل کا تصور پیش کرتے ہیں جہاں جدید ٹیکنالوجی، عالمی تعاون، اور مؤثر پالیسیوں کے ذریعے انتہائی غربت کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔
