بی بی سی دی خصوصی رپورٹ۔۔
جاسوس جھوٹ بولدے نیں لیکن اوہناں دا مقصد پکڑے جانا بالکل نئیں ہوندا۔
دسمبر میں ایک جمعے کی صبح برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے تین وکیل بی بی سی کے لندن میں واقع ہیڈکوارٹر کے ایک کمرے میں براجمان تھے۔ ان کی میز کی دوسری طرف میں اور بی بی سی کے وکیل موجود تھے۔
اس کمرے میں ایم آئی فائیو کا کوئی افسر موجود نہیں تھا کیونکہ ہم نے اس میٹنگ کو خفیہ رکھنے کی ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
ایک دوسرے کی طرف مسکراہٹیں اچھالنے کے بعد ہم کام کی بات کی طرف آ گئے اور ہم نے ایم آئی فائیو کے وکیلوں کو ثبوت فراہم کرنا شروع کیے کہ خفیہ ایجنسی نے عدالت میں جھوٹے ثبوت پیش کیے ہیں۔
یہ میٹنگ اس لیے ہو رہی تھی کہ میں نومبر میں ایم آئی فائیو کو بتا چکا تھا کہ میں ایک خبر دینے جا رہا ہوں کہ ایجنسی نے جھوٹ بولا اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس پر تبصرہ کریں۔
اپنے ردِ عمل میں ایم آئی فائیو نے جارحانہ انداز میں اصرار کیا کہ ان کی جانب سے پورا سچ ہی بولا گیا لیکن ایک بات انھیں نہیں معلوم تھی کہ میرے پاس ان کے خلاف ناقابلِ تردید ثبوت موجود تھے۔
خفیہ ایجنسی کی جانب سے جھوٹے ثبوت پیش کرنے کا معاملہ اہم اس لیے تھا کیونکہ اس سے یہ خدشات پیدا ہوتے ہیں کہ عدالتوں میں ایم آئی فائیو کے فراہم کردہ ثبوتوں پر کتنا انحصار کیا جا سکتا ہے۔ عدالتوں میں ایم آئی فائیو کی بات کو بڑا وزن دیا جاتا ہے۔
خفیہ ادارے کا پہلا جھوٹ سنہ 2022 میں اس وقت سامنے آیا جب حکومت ایک خبر کو رُکوانے کے لیے بی بی سی کو ہائی کورٹ میں لے گئی۔ یہ خبر دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے ایک شدت پسند فرد کے خلاف تھی جو ایم آئی فائیو کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔
یہاں ایجنٹ سے مراد ہے وہ فرد ہے جس کا کام مخبری کرنا ہوتا ہے اور اسے اس کام کے لیے رقم بھی ملتی ہے۔
سابق اٹارنی جنرل سویلا بریورمین اس خبر کو چھپنے سے روکنے میں ناکام رہیں تاہم وہ ایسا حکمنامہ لینے میں ضرور کامیاب ہو گئیں جس کے تحت ہم اس ’ایجنٹ‘ کی شناخت ظاہر کرنے سے قاصر رہے۔ انھوں نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ شناخت ظاہر کرنے سے اس شخص کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور اسی سبب اسے ’ایکس‘ کا نام دیا گیا۔
ہم نے یہ دلائل دیے تھے کہ اس شخص کی شناخت ظاہر کی جانی چاہیے تاکہ دیگر خواتین ایسے پُرتشدد شخص سے بچ کر رہ سکیں۔
’ایکس‘ نے ایم آئی فائیو میں اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے بیتھ (فرضی نام) نامی اپنی سابقہ پارٹنر کو خوفزدہ کیا۔ ’ایکس‘ نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ جنسی طور پر بھی ان پر تشدد کرتا تھا اور ان کی اس خاتون کو قتل کی دھمکی دینے اور ان پر چھرے سے حملہ کرنے کی ویڈیو بھی موجود تھی۔
قانونی کارروائی کے دوران ایم آئی فائیو نے کہا تھا کہ وہ ’ایکس‘ کے ایجنٹ ہونے کی تردید یا تصدیق (این سی این ڈی) نہیں کر سکتے۔ این سی این ڈی دراصل ایم آئی فائیو کی ایک دیرینہ پالیسی ہے جس کے تحت وہ اپنے ایجنٹس کے ساتھ تعلق کو خفیہ رکھتے ہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی میں تبدیلی سے رازداری کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو کہ خواتین اور مرد ایجنٹس کی حفاظت کی ضامن ہے اور ایسا کرنے سے قومی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
پھر عدالتی کارروائی کے دوران ایم آئی فائیو ڈپٹی ڈائریکٹر، جنھیں کورٹ میں ’اے‘ کا نام دیا گیا تھا، نے عدالت میں کچھ فون کالز کا ذکر کیا جن میں میرا نام بھی آیا۔
اپنے بیان میں ’اے‘ نے کہا کہ میں نے ایک پچھلی تاریخ میں ایم آئی فائیو کے ایک نمائندے سے بات کی تھی۔ یہ بات اس وقت منظرِ عام پر آئی جب ایم آئی فائیو کو معلوم ہو چکا تھا کہ بی بی سی ایک تحقیقاتی خبر پر کام کر رہا ہے جس میں ’ایکس‘ کا بھی ذکر ہے۔
’اے‘ کا مزید کہنا تھا کہ گفتگو کے دوران مجھے (بی بی سی کے نمائندے کو) یہ شک ہو گیا تھا کہ ’ایکس‘ ایک سرکاری ایجنٹ ہے تاہم ایم آئی فائیو نے ان کے ایجنٹ ہونے کی ’تصدیق یا تردید‘ نہیں کی تھی۔
لیکن ’اے‘ نے وہاں ایک بات واضح نہیں کی کہ اس گفتگو کی شروعات ایم آئی فائیو نے کی تھی اور انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایم آئی فائیو کو کیسے معلوم ہوا کہ بی بی سی ایسی کسی خبر پر کام کر رہا ہے۔
انھیں اس خبر کے بارے میں ’ایکس‘ نے بتایا تھا۔
میں نے اپنے مفصل جواب میں کہا تھا کہ ’اے‘ کی جانب سے بیان کردہ کہانی میرے اپنے بیان سے بہت مختلف ہے۔ تاہم میں نے اس پر مزید تفصیلی روشنی نہیں ڈالی کیونکہ مجھے ایسا کرنے سے ہمارے وکیلوں نے منع کر دیا تھا۔
بی بی سی کی ٹیم کو مقدمے کے کچھ دستاویزات تک رسائی تھی اور اس دوران کچھ سماعتیں اور ثبوت خفیہ بھی رکھے گئے تھے۔
ایک ایسی ہی خفیہ سماعت میں بی بی سی کے سکیورٹی کلیئرنس رکھنے والے وکیل موجود تھے جنھیں ایم آئی فائیو کے وکیلوں نے بتایا تھا کہ ایجنسی نے میرے ساتھ فون کالز کے دوران اپنی ’تردید یا تصدیق‘ نہ کرنے کی پالیسی کو برقرار رکھا تھا۔
تاہم مجھے علم تھا کہ ’اے‘ نے جو اپنے بیان میں کہا ہے وہ درست نہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ ایم آئی فائیو نے اس وقت این سی این ڈی کی پالیسی برقرار نہیں رکھی تھی اور سچ پوچھیں تو مجھے یہ جھوٹ سخت بُرا لگا تھا۔
ہائی کورٹ نے ہمیں ’ایکس‘ کی شناخت ظاہر کرنے کی اجازت تو نہیں دی لیکن یہ ضرور کہا کہ ہم اپنی تحقیقاتی رپورٹ چھاپ سکتے ہیں۔ اس رپورٹ میں لکھا گیا تھا کہ ’ایکس‘ نے بیتھ اور اپنی ایک اور سابقہ پارٹنر کا استحصال کیا اور وہ ایک خطرناک شدت پسند ہیں۔
اسی دوران بیتھ نے ایم آئی فائیو کے اپنے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر انویٹیگیٹری پاورز ٹربیونل (آئی پی ٹی) میں باقاعدہ شکایت درج کروادی۔ آئی پی ٹی ایک آزاد عدالت ہے جس کے پاس انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے اختیارات موجود ہیں۔
اس عدالت میں بھی ایم آئی فائیو نے اپنا جھوٹ برقرار رکھا۔