200

ہندو انتہاپسندی: دنیااسلامی دہشت گردی بھلھ جائے گی

نئی دہلی کے فسادات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 42 تک پہنچ چکی ہے لیکن بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت نے اس تشدد کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا آغاز کیا ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن پارٹیوں اور لیڈروں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ترمیمی شہریت بل پر احتجاج کی حوصلہ افزائی کے ذریعے اس خوں ریزی کی بنیاد رکھی تھی۔
نئی دہلی میں بظاہر حالات معمول پر آرہے ہیں لیکن اتوار سے شروع ہونے والے نسلی فسادات کے سبب پیدا ہونے والے خوف و ہراس اور غیر یقینی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اب یہ شبہ بھی تقویت پکڑرہا ہے کہ ان ہنگاموں کا آغاز بھارتی جنتا پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت نے اپنے انتہا پسند حامی گروہوں کی ذریعے جان بوجھ کر کیا تھا۔ اسی لئے ان ہنگاموں میں ہندو گروہوں کے ہاتھوں مسلمان آبادیوں پر حملوں ، قتل و غارت گری ، لوٹ مار اور آتشزنی کے واقعات کے باوجود، نہ وزیر داخلہ ذمہ داری قبول کرنے پر تیار ہیں اور نہ ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے کھل کر اس تشدد کی مذمت کرنے اور دارالحکومت میں امن و امان بحال کرنے کے لئے کوئی مؤثر پیغام دیا ہے۔
اتوار سے منگل تک بدترین تشدد کے دوران نریندر مودی بھارت کے دورے پر آئے ہوئے امریکی صدر کی میزبانی میں مصروف رہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے قیام کے دوران نئی دہلی میں ہونے والی قتل و غارتگری پر ایک لفظ کہنے پر بھی آمادہ نہیں تھے۔ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے نریندر مودی کی قیادت پر اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے فسادات کو ملک کا اندرونی معاملہ قرار دیا ۔ اس سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ دنیا کی سپر پاور کا لیڈر اور خود کو مہذب دنیا کا رہنما قرار دینے والا امریکی صدر اپنی سیاسی کامیابی کے لئے انسانوں کا خون بہانے اور دہشت و تشدد عام کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا۔
اسی لئے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمند سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ٹرمپ کے رویہ کو شرمناک اور مہذب اقدار کے منافی قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش رہ کر صدر ٹرمپ نے ثابت کیا ہے کہ وہ مہذب دنیا اور سول اقدار کی نمائندگی کے اہل نہیں ہیں۔ البتہ اس قسم کے اکا دکا بیان سے قطع نظر امریکہ ہی نہیں پورے یورپ کی طرف سے بھی جس بے حسی اور خاموشی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، اس سے نام نہاد مہذب دنیا کی معاشی مجبوریوں کے مقابلے میں اعلیٰ انسانی اقدار کی کم ہوتی قدر و قیمت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔
حالیہ فسادات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرپرستی کے متعدد اشارے موجود ہیں۔ سب سے پہلے تو وزیر داخلہ امیت شاہ اگرچہ احمد آباد میں صدر ٹرمپ کے اعزاز میں معقد تقریب چھوڑ کر فوری طور سے نئی دہلی پہنچے لیکن وہ قانون نافذ کرنے کے لئے مؤثر اقدامات کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے اس کی کوئی کوشش بھی نہیں کی کیوں شمالی دہلی میں انسانی خون سے ہولی کھیلنے کا تماشہ بی جے پی کے سیاسی مقاصد کے لئے ہی شروع کیا گیا تھا۔ پولیس حملے کرنے والے ہندو گروہوں کو من مانی کرنے کی اجازت دینے کے علاوہ متعدد مواقع پر ان کی اعانت کرتی پائی گئی۔
ہائی کورٹ کے جسٹس مرالی دھر نے جب اس بے حسی اور نااہلی پر تند و تیز سوالات اٹھائے تو چند گھنٹوں کے اندر ان کا تبادلہ کرکے یہ واضح کردیا گیا کہ عدلیہ کی آزادی و خود مختاری انتہاپسند ہندو حکومت کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ جمعرات کو جسٹس مرالی دھر کی بجائے دوسرے ججوں پر مشتمل بنچ نے اس معاملہ کو ایک ماہ کے لئے مؤخر کرکے عدالتوں کی بے بسی اور بے حسی کو ثابت کردیا۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈیول کا بیان کہ ’جو ہؤا سو ہؤا‘ اس بات کی سند فراہم کرتا ہے کہ بی جے پی اور اس کے زیر انتظام کام کرنے والی حکومتی مشینری نئی دہلی کے فسادات میں پوری طرح شریک تھی۔ ایک خاص ڈھب سے مسلمانوں پر حملے کرواکے، ایک خاص منصوبے کے تحت انہیں ’کنٹرول‘ بھی کرلیا گیا ۔کیوں کہ فی الحال خوف کی فضا پیدا کرکے سیاسی مقاصد حاصل کرنا تھا۔
یہ سوال اپنی جگہ جواب طلب رہے گا کہ کیا خاص طور سے صدر ٹرمپ کی موجودگی میں یہ ہنگامہ آرائی شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ عام طور سے حکومتیں کسی غیر ملکی مہمان کی موجودگی میں اپنے ہاں تشدد کےمظاہرے سے بچنا چاہتی ہیں لیکن نریندر مودی کے سوچنے اور سیاسی منصوبہ بندی کا طریقہ بالکل جدا ہے۔ وہ گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوکر دوسروں پر اس کا الزام لگانے کے عادی ہیں۔ 2002 میں جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو ریاست میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور دو ہزار مسلمانوں کو مار دیا گیا لیکن دنیا کے شور مچانے کے باوجود بھارت کا انتظامی، سیاسی اور عدالتی نظام انہیں اس جرم کی سزا دینے یا قصور وار قرار دینے میں ناکام رہا۔
اب اسی تجربہ کو محدود پیمانے پر نئی دہلی میں دہرایا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ اگر اس پر انگلی اٹھانے کی کوشش کرتے تو بھارتی میڈیا کے ذریعے ایسی کہانیاں تیار کرلی گئی تھیں جن میں مسلمانوں پر انتہا پسندی کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ باور کروایا جاتا کہ حکومت کو پاکستان کی ’اعانت‘ سے تشدد پر آمادہ مسلمانوں کے گروہوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے فساد کی صورت پیدا ہوئی۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن پر قتل و غارت گری کا الزام لگاکر اس حکمت عملی کے ایک پہلو سے پردہ اٹھا بھی دیا ہے۔
بھارتی راجدھانی میں ہنگاموں کے دوران پولیس لاتعلق تھی۔ وزیر اعلیٰ نئی دہلی اروند کیجر وال کی اپیل کے باوجود پولیس کی تعداد میں اضافہ کرنے یا انہیں فرض شناسی سے بلوائیوں کے خلاف کارروائی کا حکم نہیں دیا گیا۔ بی جے پی کو حال ہی میں نئی دہلی کے انتخابات میں شرمناک شکست ہوئی ہے۔ اس خوں ریزی کے ذریعے دہلی کے شہریوں سے انتقام لینے کے علاوہ یہ سیاسی نکتہ سامنے لانے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ اگر وفاقی حکومت نہیں چاہے گی تو ان کی منتخب کردہ صوبائی حکومت شہریوں کی حفاظت نہیں کرسکے گی۔ اس طریقہ کار سے ملک کے جمہوری انتظام کو براہ راست نقصان پہنچے گا لیکن نریندر مودی اور امیت شاہ کے لئے اپنا اقتدار سب سے اہم ہے۔ انہیں اچھی طرح خبر ہے کہ ان کا یہ اقتدار کسی معاشی کارکردگی یا سفارتی کامیابی کا مرہون منت نہیں ہے بلکہ ہندو انتہاپسندی کی دین ہے۔ اب وہ اس انتہا پسندی کے مظاہر عام کرکے چند ماہ بعد بہار کے انتخابات میں اپنی کامیابی یقینی بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہاں بی جے پی کااقتدار محفوظ رکھا سکے۔ مودی کا اقتدار نفرت اور مسلمان دشمنی کی بنیاد پر ہی پروان چڑھتا رہا ہے۔ وہ اس تجربہ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
دنیا نے اگر بھارت میں ہندو انتہا پسندی کو قابو کرنے اور نریندر مودی جیسے متعصب اور دہشت گرد لیڈر کا راستہ روکنے کی ٹھوس حکمت عملی پر غور نہ کیا اور بھارت کے ساتھ وابستہ سطحی مالی مفادات کے نام پر خاموشی اختیار کئے رکھی تو بھارت ہی نہیں پوری دنیا کو نفرت، جنگ جوئی اور تباہی کے ایک نئے دور کی طرف دھکیلنے کی ساری ذمہ داری بھی، اسی مہذب ، ترقی یافتہ اور نام نہاد انسان دوست اقوام پر عائد ہوگی۔

اپنی رائے دا اظہار کرو