370

بے نظیر نوں لفٹ کیوں منگنی پئی


10 اپریل 1986 کا دن چڑھا لاہور ائیرپورٹ جانے والے آخری چوک میں گزری رات سے ڈیرے ڈالے تھے، ملک بھر سے آئے لاکھوں افراد کو اس لمحے کا شدت سے انتظار تھا جب وہ جلاوطنی ختم کرکے پاکستان لوٹنے والی بھٹو کی بیٹی کی ایک جھلک دیکھنا چاہتے تھے۔ ٹرک پر پارٹی کی قیادت کے ساتھ سر پر دوپٹہ اوڑھے خوبصورت چشمہ پہنے بڑے اعتماد اور فخر کے ساتھ کھڑی بے نظیر بھٹو نے جب ہاتھ ہلاکر نعروں کا جواب دیا تو ہجوم مزید پرجوش ہوگیا۔ جس پارٹی کو پچھلے آٹھ نو برسوں سے جنرل ضیاء الحق ختم کرنے کی تدبیریں بنارہا تھا، اس کے لاکھوں کارکن استقبال کے لئے جمع تھے۔ بے نظیر نے کئی گھںٹوں کی مسافت طے کرکے محض آٹھ کلومیٹر کی دوری پر مینار پاکستان پہنچ کر جنرل ضیاء کی فوجی حکومت کے خلاف ایک تاریخ ساز خطاب کیا۔
یہ بے نظیر بھٹو سے پہلا تعارف بنا، کبھی جلسوں میں کبھی جلوس میں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، وہ ہمیشہ بڑے باوقار انداز میں عوام کو اپنا ردعمل دیتیں۔ 1988 میں انہیں اقتدار ملا، ایک امید کی کرن پیدا ہوئی کہ ملک میں جمہوری سوچ پروان چڑھے گی اور مارشل لا دور کی تلخیاں ختم ہوں گی۔ 1990 اگست میں یہ خواہش بھی دم توڑ گئی اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بننے والی کو 18 ماہ بعد حکومت سے نکال باہر کیا گیا دراصل ضیاء کی سوچ زندہ تھی وہ جمہوریت نہیں مرضی کا سیٹ اپ چاہتی تھی

1993 میں بے نظیر نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا اور تمام پابندیوں کے باوجود خود اسلام آباد سے چند پارٹی لیڈروں اور گنتی کے ورکرز کے ساتھ باہر نکل آئیں۔ جب وہ اپنے گھر سے نکل رہی تھیں تو انہیں معلوم تھا کہ ملک بھر سے کسی کارکن کو اسلام آباد نہیں آںے دیا گیا۔ ایک ایک گلی میں ناکے لگا دیے گئے تھے۔
مجھے گھر کے لان میں کھڑے ہوکر بے نظیر کا عزم اور غیرمتزلزل لہجہ آج بھی یاد آتا ہے، جب ان سے پوچھا گیا کہ بی بی کارکنوں کے قافلوں کو سندھ اور پنجاب میں روک دیا گیا اسلام آباد اور پنڈی کی سڑکیں سنسان پڑیں ہیں۔ انہوں نے کہا میں ایک مشن اور نظریہ کی علمبردار ہوں ضیاء ٹولے کی پروردہ حکومت کے ہتھکنڈے مجھے عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے، میں راولپنڈی راجہ بازار جاؤں گی اور لوگوں سے خطاب کروں گی، یہی میرا لانگ مارچ کا پیغام ہوگا۔
پھر بے نظیر قرآن کے سائے تلے وہاں سے نکلیں اور خاردار تاروں اور پولیس کی لاٹھی چارج میں وہاں سے نکلیں۔ انہیں ہر طرح سے روکنے کی کوشش کی، اس دوران صحافیوں کو بھی لاٹھیاں پڑیں، کسی کا سر پھٹا، کوئی زخمی ہوا، مگر بے نظیر پولیس کی بھاری نفری کو چکمہ دے کر ایک گاڑی پر گلیوں میں نکل گئیں۔ مجھے اپنے ساتھی صحافیوں کے ہمراہ گاڑی میں ان کا تعاقب کرنے کا موقع ملا، آئی ٹین کی سڑکوں پر بھی جابجا ناکے اور خاردار تار لگا رکھے تھے۔ ایک جگہ ان کی گاڑی ان تاروں میں الجھ کر رک گئی، ہم وہاں پہچنے اور بے نظیر گاڑی سے اترچکی تھیں، ہمارے پاس ایک کیری ڈبہ تھا جس میں زیادہ لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ ہم نے بے نظیر بھٹو کو لفٹ کی پیشکش کی۔ انہوں نے زیادہ نہیں سوچا اور اسے قبول کرلیا۔
وہ بڑی خوشی سے گاڑی میں بیٹھ گئیں، ان کے ساتھ فاروق لغاری غلام مصطفیٰ جتوئی اور چند محافظ تھے۔ بے نظیر بھٹو نے آنکھوں پر سوئمنگ گلاسز اور پاؤں میں کینوس شو پہن رکھے تھے، اس کی وجہ انہیں آنسو گیس کا سامنا کرنا تھا اور کسی بھی موقعے پر بھاگ دوڑ کی نوبت بھی آسکتی تھی۔ بے نظیر اس پریشانی کی صورتحال میں بھی بڑی مطمئن دکھائی دیں۔ انہوں نے کہا، اس جدوجہد میں آپ لوگوں کی گاڑی نے سیاسی انجن کا کام کیا ہے۔ اگرچہ زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے کہ کسی نے کہا بی بی آغا مرتضیٰ پویا کی گاڑی آگئی ہے، اس پر ہم لوگوں نے گاڑی روک دی، جس پر بے نظیر نے بالکل بچوں کی طرح تالیاں بجاکر خوشی کا اظہار کیا۔ اس لمحے کو 27 سال گزر گئے میری نظروں میں آج بھی گھوم جاتا ہے۔ کسی لیڈر کا خوش ہونے پر عام آدمی کی طرح ردعمل۔
راولپنڈی کے راجہ بازار میں گاڑی کے سن روف سے نکل کر جب انہوں نے لوگوں کے نعروں کا جواب دیا تو آنسو گیس کے گولوں کی برسات ہوگئی پھر پورا علاقہ ایک جنگ کا نقشہ پیش کرنے لگا۔ یہ پہلا موقع تھا جب باہر سے خصوصی طور پر زیادہ خطرناک ٹیئرگیس شیل منگوائے گئے تھے۔ ہمارے لیے بھی سانس لینا اور آنکھیں کھولنا مشکل ہوگیا۔ رومال گیلے کرکے منہ پر چڑھالیے، ہمارے سنیئر راحت ڈار نے اس ساری صورتحال کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرلیا۔ ان کی یہ تصاویر بین الاقوامی میڈیا پر بھی چلیں۔ بے نظیر کو گرفتار کرلیا گیا۔ تمام لیڈر اور کئی کارکن بھی جیلوں میں چلے گئی انسانی حقوق کے رہنما بھی انہیں کے ساتھ گئے۔ کوئی مارگلہ تھانے تک رہا کسی کو اڈیالہ جیل بھیج دیا۔
بے نطیر دوبارہ برسراقتدارآئیں، اس دوران لاہور پریس کلب میں عہدیدار منتخب ہوا تو حلف برداری کے لئے 1994 میں آئیں۔ انہیں جب یاد دلایا گیا کہ لانگ مارچ میں لفٹ دی تھی، بے نظیر نے بے ساختہ کہا ”راحت ڈار اپنی گاڑی کو ٹھیک حالت میں رکھیں، جمہوریت کی جدوجہد کے دوران پھر کسی موقعے پر آپ کو ہماری مدد کرنا پڑسکتی ہے“۔
بے نظیر پھر اقتدار سے نکال دی گئیں، مشرف کا دور آگیا، پھر ایک بار جلاوطنی اور 16 اکتوبر 2007 کو کراچی آمد پر دہشت گرد حملوں سے استقبال ڈھائی سو افراد جاں بحق ہوگئے، بے نظیر بھٹو بال بال بچ گئیں، ان کی زندگی کو خطرہ ہے، ایسا جنرل پرویز مشرف نے کہہ دیا تھا۔ دھمکیوں کی کبھی پروا نہ کرنے والی نڈر اور دلیر خاتون نے اپنے عزم کو لڑکھڑانے نہ دیا۔
لاہور آئیں تو یہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے، ان دنوں ٹی وی کے لئے کام کررہے تھے، رپورٹنگ کے دوران ملاقات کا موقع مل جاتا، بے نظیر میں اب بہت زیادہ پختگی آچکی تھی، وہ کچھ عمررسیدہ سی بھی دکھائی دیتیں، اگرچہ ایسا تاثر اپنی گفتگو یا لباس میں کبھی نہیں دیا۔ چہرے پر ہمیشہ ایک تازگی سی چھائی رہتی، سخت سیکیورٹی دیکھ کر کئی رپورٹر کہہ دیتے ”یار یہ ڈیوٹی تبدیل کرا لیتے ہیں بے نظیر کے ساتھ رپورٹنگ مشکل ہوگئی ہے“ جواب میں ہمارے ایک سنیئر کا کہنا تھا، بی بی نے جن حالات کا سامنا کیا ہے اس میں ان کی ہمت ہے، ہمیں اس سلسلے میں ان سے تعاون کرنا چاہیے“۔
بے نظیر جانتی تھیں ان کے حریف سیاسی یا غیر سیاسی قوتیں کیا حکمت عملی اپنائے ہیں، اور انہوں نے کس طرح جواب دینا ہے۔ ایک بار گفتگو میں انہوں نے کہ میں خطروں سے نہیں ڈرتی۔ میں نے اچھے برے تمام حالات دیکھے ہیں، اقتدار، جیل، جلاوطنی، اپنوں کی شہادت، خاندان سے دوری، اس سے بڑھ کر یہ لوگ مجھے اور کتنا تنگ کرسکتے ہیں“۔ اب صرف میری زندگی پر حملہ کرنا باقی ہے، وہ بھی کوششیں شروع ہوگئیں“۔
پھر وہ دن بھی آگیا 27 دسمبر لیاقت باغ راولپنڈی میں خطاب، نہ جانے کیوں میرے منہ سے نکلا کہ بے نظیر نے مقام کا انتخاب ٹھیک نہیں کیا، یہاں ایک وزیراعظم پہلے گولی کا نشانہ بن چکا ہے۔ جلسہ میں بی بی نے اپنا جوشیلا خطاب کیا، سٹیج سے اتریں، اور گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئیں، جیسے لگا سب ٹھیک ٹھاک ہوگیا۔ یہ مناظر دفتر میں دیکھ رہا تھا کہ اچانک دھماکے اور گولی چلنے کی آواز اور پھر خبر کہ بے نظیر شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جائی گئیں، پھر ہمارے ہی چینل نے یہ ٹکر چلادیا، بے نظیر جاں بحق، میرے منہ سے پھر نکلا یہ کیا چلا رہے ہیں، اوہ بھائی کیا کررہے ہو، جلد بازی میں کیا کررہے ہو، نہ جانے میں کیا کیا بولتا گیا، ہمارے ڈائریکٹر نیوز طلعت حسین نے مجھے بعد میں بتایا خبر کنفرم تھی پہلے چلاتے دکھ بھی ہورہا تھا اور دل بھی نہیں چاہتا تھا۔
یوں بھٹو خاندان کی تاریخ دہرائی گئی۔ اور 22 جون 1953 کو پیدا ہونے والی بے نظیر 54 برس کی عمر میں 27 دسمبر 2007 کو شہید کردی گئیں۔

اپنی رائے دا اظہار کرو